ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / راجیودھون کو ہٹانے کے فیصلہ پر ہنگامہ کے بعد جمعیۃ کا یوٹرن، دھون کی سرپرستی میں پٹیشن کی تیاری: مولانا ولی رحمانی

راجیودھون کو ہٹانے کے فیصلہ پر ہنگامہ کے بعد جمعیۃ کا یوٹرن، دھون کی سرپرستی میں پٹیشن کی تیاری: مولانا ولی رحمانی

Wed, 04 Dec 2019 12:16:00    S.O. News Service

نئی دہلی، 4/دسمبر (ایس او نیوز)  ریویو پٹیشن کے معاملے میں مسلمانوں کے بعض حلقوں کی طرف سے اعتراضات کئے جانے کا معاملہ ابھی ٹھنڈا بھی نہیں ہوتا کہ بابری مسجد معاملہ اہم فریق جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے مقدمہ کے کلیدی سینئر وکیل اور مفت میں مقدمہ لڑنے والے ڈاکٹر راجیو دھون کو مقدمہ سے ہٹانے کے فیصلے نے پورے ملک کے مسلمانوں میں اضطراب پیدا کردیا اور سوشیل میڈیا پر زبردست ہنگامہ ہوگیا، جس میں اس فیصلے پر سخت تنقید کی جارہی ہے۔ لوگوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ بھاگوت سے ملاقات کے بعد جمعیۃ کا یہ دوسرا قدم ہے جس پر بے چینی کی فضا پیدا ہوئی ہے۔ ڈاکٹر راجیوں دھون کی طرف سے واضح بیان آنے سے اس خبر کی تصدیق ہوئی کہ انہیں واقعی مقدمے  سے الگ کردیا گیا ہے۔ چوطرفہ ہنگامہ اور دباؤ کے بعد جمعیۃ نے یوٹرین لیا اور ایک بیان جاری کر کے کہا کہ یہ اطلاع غلط ہے کہ انہیں مقدمہ سے ہٹایا گیا ہے۔ وہ آج بھی ہمارے ساتھ ہیں۔ مولاناارشد مدنی تو یہاں تک کہہ دیا کہ اپنی غلطی پر معافی مانگنے تیار ہیں۔ دوسری طرف مسلم پرسنل لا بورڈ  نے پوری قوت کے ساتھ راجیودھون کے ساتھ کھڑا رہنے کا اعلان کیا اور کہا کہ 9/دسمبر سے قبل ریویو پٹیشن داخل کردی جائے گی اور یہ کام ڈاکٹر راجیو دھون کی سرپرستی میں انجام پارہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں رام جنم بھومی۔بابری مسجد زمینی تنازعے میں مسلم فریقوں کی طرف سے پیروی کرنے والے سینئر وکیل ڈاکٹر راجیو دھون نے منگل کو بتایا کہ ان کو اس معاملےسے ہٹادیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کو اس ’حمقانہ‘ بنیاد پر ہٹایا گیا کہ وہ بیمار ہیں۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل راجیو دھون نے فیس بک پر اس سے متعلق سے ایک پوسٹ لکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اب ایودھیا معاملے میں دائر ریویو کی عرضی یا اس معاملے سے کسی طرح سے نہیں جڑے ہیں۔

انہوں نے لکھا، مجھے اے او آر (وکیل آن ریکارڈ) اعجاز مقبول، جو جمعیۃ کی نمائندگی کرتے ہیں،ان کے ذریعے بابری معاملے سے ہٹادیا گیا ہے۔ میں نے بنا کوئی اعتراض جتائے اس ’برخاستگی‘ کو منظور کرنے کا رسمی خط بھیج دیا ہے۔ میں اب سے ریویو کی عرضی یا اس معاملے سے جڑا نہیں ہوں۔‘ دھون نے آگے لکھا ہے، ’مجھےمطلع کیا گیا ہے کہ مدنی کے اشارے پر مجھے اس معاملے سے ہٹادیا گیا ہے کیونکہ میں بیمار ہوں۔ یہ پوری طرح سے بکواس ہے۔ ان کو مجھے ہٹانے کے لئے اپنے اے او آر اعجاز مقبول کو ہدایت دینے کا حق ہے جو انہوں نے ہدایت کے مطابق کیا ہے۔ لیکن اس کے لئے بتائی جارہی وجہ بدنیتی سے بھری اور جھوٹی ہے۔‘ دھون کی سوشیل مڈیا پوسٹ آنے کے کچھ دیر بعد اعجاز مقبول نے کہا کہ ایسا کہنا غلط ہے کہ دھون کو ان کی بیماری کی وجہ سے ایودھیا معاملے میں دائر ریویو کی عرضی کے معاملے سے ہٹایا گیا ہے۔ معاملہ بس اتنا ہے کہ میرے موکل (جمعیۃ علماء ہند) خود یہ عرضی داخل کرنا چاہتے تھے۔‘

دھون نے کہا کہ وہ مسلم فریقوں میں پھوٹ نہیں ڈالنا چاہتے تھے۔ راجیوں دھون نے خبررساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا ، ’میں نے یکجہتی کے ساتھ تمام مسلم فریقوں کی طرف سے اس معاملے میں بحث کی تھی اور ایسا ہی چاہوں گا۔ مسلم فریقوں کو پہلے اپنے اختلاف سلجھانے چاہئے۔سینئر وکیل نے کہا کہ بیمار ہونے کی وجہ سے ان کو ہٹائے جانے کے بارے میں مقبول کے ذریعہ عوامی طور سے کہے جانے کے بعد ہی انہوں نے فیس بک پر اپنی رائے کا اظہار کیا ۔

دریں اثناء جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے ملک کے ممتاز اور سینئر ایدوکیٹ ڈاکٹر راجیودھون کے تعلق سے میڈیا میں آرہی خبروں کی نہ صرف سختی سے تردید کی ہے بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ انہیں ہر گزہر گز کیس سے الگ نہیں کیا ہے، انہوں نے کہا کہ بابری مسجد ملکیت مقدمہ میں ایڈوکیٹ اعجاز مقبول جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے ایڈویکٹ آن ریکارڈ تھے اور ریویو پٹیشن داخل کرنے میں بھی وہی ہمارے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ہیں لیکن اس سے یہ مطلب اخذ کرلینا کہ ڈاکٹر راجیو دھون کو جمعیۃ علمائ ہند کے کیس سے الگ کردیا گیا ہے انتہائی نا مناسب بات ہے، مولانا سید ارشد مدنی نے وضاحت کی کہ ہم ڈاکٹر راجیودھون سے کبھی نہیں ملے اور نہ ہی کبھی ان سے ہماری فون پر گفتگو ہوئی ہے، ہمارے درمیان اعجاز مقبول ہی ایک ایسا ذریعہ تھے جو ہماری بات ان تک پہنچاتے تھے، انہوں نے کہ اگر کسی طرح کی کوئی غلط فہمی ہوئی ہے جس کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے تو ہم ڈاکٹر راجیو دھون سے مل کر اپنی غلطی کی معافی مانگ لیں گے۔ مولانا ارشد مدنی نے وضاحت کی کہ ریویو پٹیشن داخل کرتے وقت جب ہم نے ایڈوکیٹ اعجاز مقبول سے دریافت کیا تو انہوں نے اطلاع دی کہ ان کے دانت میں تکلیف ہے اور وہ ڈاکٹر کے یہاں گئے ہوے ہیں ہم نے پریس کانفرنس میں بھی یہی بات کہی ہے،یہ ہرگز نہیں کہا کہ ڈاکٹر راجیودھون کو خرابی صحت کے بنائ پر کیس سے الگ کیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے اس حوالہ سے کوئی خط یا ای میل نہیں لکھا البتہ راجیو دھون نے اعجاز مقبول کو ای میل بھیجا ہے، انہوں نے آخر میں کہا کہ ڈاکٹر راجیو دھون آج بھی جمعیۃ علماء ہند کے وکیل ہیں اور اس کیس میں آگے جو بھی قانونی عمل ہوگا ان کے مشورہ سے ہی ہوگا۔

ادھر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے ایک پریس بیان میں کہا ہے کہ بابری مسجد ملکیت مقدمہ میں سینئر ایڈوکیٹ جناب ڈاکٹر راجیو دھون کی خدمات ناقابل فراموش اور لاثانی ہیں۔ انہوں نے جس اخلاص، جرأت و بیباکی، حوصلہ و استقامت اور ثابت قدمی کے ساتھ یہ مقدمہ لڑا، باوجودیکہ ایک طبقہ کی طرف سے ان کی شدید مخالفت کی گئی، انھیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے خلاف سوشل میڈیا پر اہانت آمیز مہم چلائی گئی لیکن وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہے اورٹس سے مس نہیں ہوئے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ، پوری ملت اسلامیہ ہندیہ اور ملک کے امن پسند اور انصاف پسند افراد ان کی ان خدمات جلیلہ کے لئے انتہائی ممنون و مشکور ہیں۔جنرل سکریٹری بورڈ نے فرمایا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ (جس نے بابری مسجد ملکیت مقدمہ کے 8 میں سے 7 مقدمات کی پیروی کی تھی) نے اپنی مجلس عاملہ میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر نظر ثانی (Review Petition) کی درخواست داخل کرے گا۔ اس سلسلے کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں اور انشاء اللہ 9 دسمبر سے قبل 4 فریقوں کی طرف سے یہ درخواستیں داخل کردی جائیں گی۔ حسب معمول یہ سب کام ڈاکٹر راجیو دھون کی سرپرستی و سرکردگی میں انجام پارہا ہے اور آگے بھی ان ہی کی سرپرستی میں انجام پائے گا۔


Share: